سابق انگلش کپتان اور معروف کمنٹیٹر ناصر حسین بھی آئی سی سی کے دوہرے معیار پر بول پڑے۔
تفصیلات کے مطابق ناصر حسین نے کہا اگر بنگلہ دیش کی جگہ بھارت وینیو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا تو آئی سی سی کیا کرتا؟
انہوں نے آئی سی سی کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا آئی سی سی بھارت کو بھی ایونٹ سے باہر کردیتا؟ آئی سی سی کو بنگلہ دیش اور پاکستان کو بھی بھارت کی طرح برابری سے ڈیل کرنا ہوگا۔
ناصر حسین کاکہنا تھا کہ اچھا لگا کہ بنگلہ دیش اپنی بات پر قائم ہے اور وہ اپنے کھلاڑی کے لیے کھڑے ہوئے۔
سابق انگلش کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کا ساتھ دے کر اچھا کام کیا، کسی کو کھڑا ہوکر یہ ضرور کہنا ہوگا سیاست بہت ہوئی، اب ہم کرکٹ کھیل لیں۔
اس کےساتھ ساتھ سابق انگلش کرکٹر مارک بوچر نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ پاک بھارت میچ کرکٹ کی دنیا کا سب سے زیادہ منافع بخش مقابلہ ہے، آئی سی سی کو یقینی بنانا پڑتا ہے کہ بھارت اور پاکستان ایک ہی گروپ میں ہوں ، باقی ٹیموں کے معاملے میں سب ضابطے کے تحت ہوتا ہے، چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کیلئے خصوصی انتظام کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ بھارت جہاں چاہتا ہے کھیلتا ہے، دوسری ٹیموں کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے، ماننا پڑے گا کہ پاکستان نےاس بار بڑا زبردست کام کیا ہے۔
مارک بوچر نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت اور آئی سی سی پر دباؤ ڈالنے کا یہ واحد ذریعہ تھا۔
واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے اتوار کو 15 فروری کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔
بھارتی میڈیا نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو تاحال باضابطہ طور اپنے پلیٹ فارم سے آگاہ کرنے کی کارروائی مکمل نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت اور سری لنکا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا تھا، جس پر پاکستان نے بنگلا دیش کی حمایت کی تاہم آئی سی سی نے بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ورلڈ کپ 2026 میں شامل کر لیا، جس کے بعد پاکستان نے اس فیصلے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
دوسری جانب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ میچز میں پاکستان کے بھارت سے کھیلنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پریشان ہو گئی ہے اور اب آئی سی سی پاکستان کو منانے کے لیے راستے تلاش کرنے لگا ہے۔