ایران کا امریکی ایف-18 طیارہ گرانے کا دعویٰ، امریکہ کی تردید

ایران کا امریکی ایف-18 طیارہ گرانے کا دعویٰ، امریکہ کی تردید

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے ایک امریکی ایف-18 (F-18) لڑاکا طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ملکی سرحدوں کے دفاع اور فضائی حدود کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کی گئی ہے۔ تاہم، اس واقعے کی مزید تفصیلات اور طیارے کے گرنے کے مقام کے حوالے سے فی الحال خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کا ایف-18 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ قطعی طور پر جھوٹا اور بے بنیاد ہے اور ان کا کوئی بھی طیارہ اس وقت لاپتہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کارروائی کا نشانہ بنا ہے۔ پینٹاگون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فضائی آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں اور ایران کے اس بیان کو محض “پروپیگنڈا” قرار دیا جا رہا ہے۔

سفارتی اور عسکری ماہرین اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایسی متضاد خبریں کسی بڑی غلط فہمی یا براہِ راست تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت سخت لفظی جنگ جاری ہے، اور دونوں ممالک کے دفاعی نظام ہائی الرٹ پر ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اپنے دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت یا ملبہ پیش کرنے میں ناکام رہا تو اس سے بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے تردید ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس معاملے کو مزید طول نہیں دینا چاہتا۔

مزید پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ کی بظاہر تردید، مگر اشاروں میں امریکہ سے جاری مذاکرات کا اعتراف، سینئر صحافی احمد منظور کا دعویٰ

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *