آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) جیسے AI ٹولز اپنے صارفین کی عادات، پسند ناپسند، سیاسی نظریات اور یہاں تک کہ ان کی نفسیاتی حالت کا تجزیہ کر کے ان کی “ڈیجیٹل پروفائلز” تیار کر رہے ہیں، جو نجی زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آپ AI سے بات کرتے ہیں، تو وہ صرف جواب نہیں دیتا بلکہ آپ کے اندازِ گفتگو سے ڈیٹا اکٹھا کرتا ہےآپ کس وقت متحرک ہوتے ہیں اور کس قسم کے سوالات پوچھتے ہیں۔ آپ کے الفاظ کے انتخاب سے آپ کے موڈ، ذہنی تناؤ یا خوشی کا اندازہ لگانا۔
آپ کی پیشہ ورانہ مہارتوں، مالی دلچسپیوں اور خاندانی پس منظر کا ریکارڈ رکھنا۔
اگر یہ پروفائلز کسی تیسری پارٹی یا ہیکرز کے ہاتھ لگ جائیں، تو اسے “سوشل انجینئرنگ” اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی نجی سوچ کو جان کر کمپنیاں آپ کو ایسی چیزیں بیچنے کی کوشش کر سکتی ہیں جن کی آپ کو ضرورت بھی نہیں۔
ڈیجیٹل شناخت کی چوری: آپ کے سوچنے کے انداز کی نقل کر کے AI آپ کی جگہ کسی سے بھی گفتگو کر سکتا ہے۔
سائبر ماہرین درج ذیل حفاظتی تدابیر تجویز کرتے ہیں:
کبھی بھی اپنا پتہ، بینکنگ تفصیلات، یا انتہائی نجی مسائل AI کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ سیٹنگز میں جا کر ‘Chat History & Training’ کا آپشن بند کر دیں تاکہ آپ کا ڈیٹا ماڈل کی ٹریننگ کے لیے استعمال نہ ہو۔ مخصوص کاموں کے لیے ‘Temporary Chat’ فیچر استعمال کریں جو گفتگو ختم ہوتے ہی ریکارڈ مٹا دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹس اور طبی مشورے: نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

