سرکاری ملازمین کے اہم خبر

سرکاری ملازمین  کے اہم خبر

وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے سرکاری ملازمین کی رہائش کیلئے نیا آفس میمورنڈم جاری کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گریڈ 1 سے 22 تک کے وفاقی سرکاری ملازمین کیلئے رہائشی مکانات کی ہائرنگ کا اختیار وزارتوں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 31 جولائی 2004 کا سابقہ آفس میمورنڈم منسوخ کر دیا گیا ہے۔

نئے میمورنڈم کے مطابق وزارتیں، ڈویژنز اور محکمے اپنے بجٹ کے اندر رہتے ہوئے رہائش ہائر کرنے کے مجاز ہوں گے۔ پالیسی کا اطلاق ابتدائی طور پر چھ مخصوص شہروں کیلئے ہو گا، جس کے تحت اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے ملازمین کیلئے یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔

نئے میمورنڈم کے مطابق ملازمین اپنے استحقاق کے مطابق نجی رہائش کا بندوبست کر کے مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں گے۔ سابقہ ہائر شدہ مکان خالی کرنے کی رپورٹ اور یوٹیلیٹی بلز کی کلیئرنس لازمی قرار دی گئی ہے۔ تمام وزارتوں اور محکموں میں کرائے کے تعین کیلئے اسیسمنٹ کمیٹی قائم کی جائے گی۔

میمورنڈم کے مطابق لیز معاہدہ عام طور پر تین سال کیلئے ہوگا، ایک سال کا پیشگی کرایہ ادا کیا جائے گا جبکہ باقی ادائیگی چھ ماہ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ ادائیگیاں متعلقہ اے جی پی آر کے ذریعے کی جائیں گی اور قابل اطلاق انکم ٹیکس کی کٹوتی ہوگی۔ معاہدے میں توسیع متعلقہ وزارت یا محکمہ کرے گا، جبکہ لیز کی مدت ختم ہونے سے تین ماہ قبل تجدید یا نیا مکان تلاش کرنا ملازم کی ذمہ داری ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے واٹس ایپ پر پابندی لگا کر متبادل سرکاری پلیٹ فارم متعارف کروا دیا

نئے میمورنڈم کے مطابق تبادلے کی صورت میں نیا مکان الاٹمنٹ سے قبل نو ڈیمانڈ سرٹیفکیٹ لازم ہو گا۔ اگر میاں بیوی ایک ہی اسٹیشن پر ملازم ہوں تو صرف ایک ہائر شدہ رہائش کے اہل ہوں گے جبکہ دوسرا ہاؤس رینٹ الاؤنس کا حق دار ہو گا۔ کنٹریکٹ ملازمین اسی صورت اہل ہوں گے جب ان کے معاہدے میں سہولت درج ہو گی۔ ڈیلی ویجز، ایڈہاک اور کنٹینجنسی ملازمین ہائرنگ کے اہل نہیں ہوں گے۔

میمورنڈم کے مطابق وزارتیں متعلقہ بجٹ ہیڈ کے تحت فنڈز مختص کریں گی۔ ہائر شدہ مکان کی الاٹمنٹ پر ہاؤس رینٹ الاؤنس بند کیا جائے گا۔ الاٹیز کو 5 فیصد کرایہ کٹوتی سے استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ یوٹیلیٹی بلز اور کسی نقصان کی ذمہ داری الاٹی پر عائد ہوگی۔

نئے میمورنڈم کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے دیہی علاقوں میں شہری علاقوں کے برابر ہائرنگ کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ ون اسٹیپ بیلو اسیسمنٹ ختم کر دی گئی ہے۔

Related Articles