اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ’دہشت گرد حملے پاکستان کے امن اور معاشی استحکام کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی خطے میں بدامنی پھیلانے کی منظم کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد کسی صورت کمزور نہیں ہونے دے گا۔
عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں عاصم افتخار نے انکشاف کیا کہ ’دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کی جا رہی ہے‘، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ‘پاکستان دہشت گردی کے خلاف بھرپور، مؤثر اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا‘۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان سعودی دفاعی معاہدہ تاریخی اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے‘۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون دہائیوں پر محیط شراکت داری کا تسلسل ہے، جس کی بنیاد برادرانہ تعلقات اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر ہے۔
عاصم افتخار نے اس بات پر زور دیا کہ ’سعودی عرب پاکستان کا اہم معاشی شراکت دار ہے‘، اور دفاعی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جو خطے میں استحکام اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ ’غزہ میں مستقل جنگ بندی ناگزیر ہے اور فلسطینی ریاست کا قیام ہی دیرپا امن کا واحد حل ہے‘۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’عالمی ادارے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بنیادی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ دنیا کے مظلوم عوام کو حقیقی انصاف مل سکے‘۔