ملک میں ممکنہ فیول بحران کے سائے گہرے ہونے لگے ہیں، کیونکہ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے اپنے خدشات دور نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر کے ہزاروں پیٹرول پمپ بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، صنعت اور عام شہری شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے فوری ملاقات کے لیے باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 6 مارچ کو بھی ایک مراسلہ بھیجا گیا تھا، تاہم اب تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس پر پمپ مالکان میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم سیکٹر اس وقت سنگین نوعیت کے مسائل سے دوچار ہے، جن میں آپریشنل اخراجات میں اضافہ، مالی دباؤ، قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال اور پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں شامل ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ان عوامل نے کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے اور پمپ مالکان کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پالیسی سازی کے عمل میں صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں موجود 14 سے 15 ہزار پیٹرول پمپ مالکان اس وقت مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ ملک گیر سطح پر پیٹرول پمپس بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس ممکنہ اقدام سے ملک میں شدید فیول بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے بلکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اگر پیٹرول پمپس کی بندش ہوئی تو اس کے اثرات فوری طور پر معیشت پر پڑیں گے، قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور عوام کو لمبی قطاروں اور قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے خدشات کے باعث مارکیٹ میں بے چینی دیکھی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ اگر صورتحال سنگین ہوئی تو اس کی مکمل ذمہ داری وزارتِ پیٹرولیم پر عائد ہوگی، کیونکہ بارہا رابطے کے باوجود مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔