پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی سینیٹر مشعال یوسفزئی کے متنازع بیانات پر سخت اقدام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے پارٹی کی مرکزی قیادت کے مطابق عمران خان کی بہنوں کے خلاف کسی قسم کی زبان برداشت نہیں کی جائے گی۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشعال یوسفزئی کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیونکہ عمران خان کی فیملی پر جملہ بازی قابل قبول نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ “میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ کوئی بھی عمران خان کی فیملی پر الزام لگائے گا تو اس کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
نجی ٹی وی کے مطابق مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا اور پارٹی کی مرکزی قیادت 8 فروری کے احتجاج کے بعد اس معاملے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔
پارٹی کا موقف ہے کہ عمران خان کی بہنوں کے خلاف بیان ناقابل قبول ہے، اور یہ فیصلہ شیر افضل مروت کے معاملے کے بعد مزید واضح ہوا ہے۔
دو روز قبل سیکر ٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہن علیمہ خانم کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کی بات جھوٹ پر مبنی تھی۔
انہوں نے مشعال یوسفزئی کے بیان کو لغو اور غیر درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص جھوٹ بولتا ہے اسے حساب دینا ہوگا۔ سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ مشعال یوسفزئی سے 8 فروری کے احتجاج کے بعد بازپرس ہوگی اور عمران خان کی بہنیں اپنے بھائی کے لیے خلوص کا محافظ ہیں۔
مشعال یوسفزئی کا بیان
پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے نجی نیوز چینل کے شو میں دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کے سبب اڈیالہ کے باہر دھرنا دیا۔
عمران خان کی فیملی نے سلمان اکرم راجہ سے رابطہ کر کے دھرنا ختم کرنے کی ہدایت کی، لیکن اراکین پارلیمنٹ نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا۔
مشعال یوسفزئی نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ کے مطابق عمران خان نے پارٹی فیصلوں کا اختیار انہیں دیا ہے، اور پارٹی ڈسپلن کے تحت اراکین نے ان کی ہدایت پر عمل کیا۔