دہشتگرد بی ایل اے کے حالیہ حملے سوشل میڈیا کے لئے “کانٹینٹ کری ایشن آپریشنز” تھے، طلعت حسین کا دعویٰ

دہشتگرد بی ایل اے کے حالیہ حملے سوشل میڈیا کے لئے “کانٹینٹ کری ایشن آپریشنز” تھے، طلعت حسین کا دعویٰ

سینئر صحافی طلعت حسین نے اپنے ایکس (X) اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حالیہ حملوں کی لہر کے بارے میں کیے گئے تازہ جائزوں میں اہم پیٹرن سامنے آئے ہیں۔

طلعت حسین کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملے بظاہر مسلح کارروائیاں دکھائی دیتے ہیں، تاہم حقیقت میں یہ مکمل طور پر “کانٹینٹ کری ایشن آپریشنز” تھے، جن کا مقصد میدان جنگ میں کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ پروپیگنڈا ویڈیوز تیار کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بیانیہ تشکیل دینا تھا۔

طلعت حسین کے مطابق کیورٹی ذرائع کی جانب سے میڈیا نمائندوں کے ساتھ شیئر کیے گئے جائزوں کے مطابق کئی علاقوں میں موبائل ڈیٹا بند ہونے کے باوجود بی ایل اے نے اپنے حملوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے سیٹلائٹ اپ لنکس استعمال کیے گئے، جن میں خصوصی پورٹیبل براڈبینڈ ٹرمینلز شامل تھے جو 1 ایم بی پی ایس اپ لنک اسپیڈ اور 38 گھنٹے اسٹینڈ بائی ٹائم کی صلاحیت رکھتے تھے۔

طلعت حسین کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملوں کی ریکارڈنگ جدید گو پرو (GoPro) کیمروں، ڈی جے آئی (DJI) کواڈ کاپٹرز اور تھرمل لینسز کے ذریعے کی گئی۔ بعد ازاں یہ ویڈیوز لیپ ٹاپس پر DaVinci Resolve جیسے سافٹ ویئر کے ذریعے ایڈٹ کی گئیں، جن میں بی ایل اے کا لوگو اور پس منظر میں نعرے بھی شامل کیے گئے۔

طلعت حسین کے ذرائع کے مطابق ایک گرفتار دہشت گرد نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس کا واضح مقصد کسی بھی قیمت پر ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر بی ایل اے کا جھنڈا لہرانا اور اس کی ویڈیو بنا کر آن لائن پھیلانا تھا۔

طلعت حسین کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں اور ان کی میڈیا پروجیکشن کا ایک بڑا ہدف یورپ اور خلیجی ممالک میں موجود بلوچ ڈائسپورا کو متاثر کرنا بھی تھا۔

یہ بھی پڑھیں؛ بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی رات گئے بڑی کارروائیاں، مزید20 بھارتی بی ایل اے دہشتگرد ہلاک

طلعت حسین کے ذرائع کے مطابق برآمد ہونے والے آلات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بی ایل اے کی ہر ٹیم کے پاس کم از کم تین کیمرے، ایک تھریا (Thuraya) ٹرمینل، ایک سیٹلائٹ فون اور سولر پاور بیک اپ موجود تھا، جس کے باعث وہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں بھی تکنیکی طور پر خودکفیل رہے۔

طلعت حسین کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے ان جائزوں کے نتیجے میں کہا ہے کہ جدید دور کی عسکریت پسندی اب صرف بندوقوں اور بموں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ یہ جنگ بینڈوڈتھ، سافٹ ویئر اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔

طلعت حسین نے مزید لکھا کہ ذرائع کے مطابق بی ایل اے نے حقیقی ٹیکٹیکل کامیابی کے بجائے ویڈیو سازی کو ترجیح دی، اور یہی ان کا بنیادی ہتھیار اور خطرہ ہے۔ ان جائزوں کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زمینی کارروائیوں کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اب اداروں کو سیٹلائٹ اسپیکٹرم اینالائزرز، اپ لنک ڈیٹیکشن سسٹمز اور کرپٹو فنڈنگ چینلز کی فعال نگرانی جیسے اقدامات اپنانا ہوں گے۔ ساتھ ہی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاست کو بھی اتنی ہی تیز اور مہارت پر مبنی ڈیجیٹل میسیجنگ کے ذریعے پروپیگنڈے کا جواب تصدیق شدہ حقائق کے ساتھ دینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں، گزشتہ تین دن میں 197 دہشت گرد ہلاک، 22 جوان شہید

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *