اسرائیل کا ایران پر حملہ، 70 سے زائد شہری شہید، ایران کی جوابی کارروائی جاری، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

اسرائیل کا ایران پر حملہ، 70 سے زائد شہری شہید، ایران کی جوابی کارروائی جاری، خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

  اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں جن میں اب تک مجموعی طور پر 70 سے زائد شہری شہید ہوچکے ہیں

۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حملوں میں ایرانی فوجی تنصیبات، حکومتی عمارتوں اور حساس دفاعی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایرانی صدارتی دفتر، فوجی کمانڈ سینٹرز، دفاعی تنصیبات اور پارچین ملٹری کمپلیکس اور وزارت انٹیلی جنس ایران کی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

تہران کے مختلف علاقوں میں میزائل داغے گئے جن میں یونیورسٹی اسٹریٹ، مہرآباد ہوائی اڈہ اور چابہار بندرگاہ کے قریب مقامات شامل ہیں ،مبینہ طور پر علی خامنہ ای کی رہائشگاہ کے قریب بھی سات میزائل گرے،

تاہم ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر محفوظ ہیں اور انہیں پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایران کے سرکاری ذرائع کے مطابق تہران میں کئی وزارتوں کی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی کو ”آپریشن ایپک فیوری“ کا نام دیا گیا ہے اور اس دوران صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ امریکی بحری بیڑے مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں تاکہ اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کیا جا سکے۔

ایران کی جوابی کارروائی

دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب میزائلوں کی تین لہریں فائر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تل ابیب سمیت مختلف اسرائیلی شہروں میں میزائل گرنے کی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے زیادہ تر میزائلوں کو فضاء میں ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔

خلیجی ممالک کی صورتحال

خلیجی ممالک میں بھی صورتحال متاثر ہوئی ہے جہاں قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت اور سعودی عرب میں بعض فضائی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں میزائل کا ملبہ لگنے سے ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کی بھی خبر سامنے آئی ہے۔

ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ تہران میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز متاثر ہوئی ہیں جبکہ کئی علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں اور کلاسز آن لائن منتقل کر دی گئی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کی سرگرمیاں بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

بین الاقوامی دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو خطے میں انسانی اور معاشی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی برادری فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوششیں کر رہی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *