جنوبی ایشیائی کمیونٹیزکے لیے بڑی خوشخبری، یو اے ای کی جانب سے نئی ویزا کیٹیگریز متعارف

جنوبی ایشیائی کمیونٹیزکے لیے بڑی خوشخبری، یو اے ای کی جانب سے نئی ویزا کیٹیگریز متعارف

متحدہ عرب امارات نے 2026 کے لیے اپنے امیگریشن نظام میں اہم اور دور رس اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے متعدد نئی ویزا کیٹیگریز متعارف کروا دی ہیں۔ ان اصلاحات کے تحت گولڈن ویزا پروگرام کو مزید وسعت دی گئی ہے، جس میں ’اے آئی‘ اسپیشلسٹ ویزا، انٹرٹینمنٹ ویزا اور مختلف پیشہ ورانہ ویزا کی نئی اقسام شامل کی گئی ہیں۔

اماراتی حکام کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد ملک میں عالمی ٹیلینٹ، غیر ملکی سرمایہ کاری اور جدید صنعتوں کو متوجہ کرنا ہے، تاکہ یو اے ای کو ٹیکنالوجی، تخلیقی معیشت اور نالج بیسڈ اکانومی کا عالمی مرکز بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ عرب امارات ویزا، پاکستانیوں پر کم سے کم بینک اسٹیٹمنٹ کی شرط عائد

نئے متعارف کرائے گئے ’اے آئی‘ اسپیشلسٹ ویزا کا مقصد ایسے ماہر افراد کو راغب کرنا ہے جو مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس ویزا کے تحت ماہرین کو طویل المدت قیام، ملازمت، تحقیق اور اسٹارٹ اپس قائم کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

اسی طرح انٹرٹینمنٹ ویزا فنکاروں، اداکاروں، موسیقاروں، فلم سازوں، ڈیجیٹل کریئیٹرز اور ثقافتی صنعت سے وابستہ پیشہ ور افراد کے لیے ایک نیا اور باقاعدہ راستہ فراہم کرے گا۔ اس اقدام سے یو اے ای میں فلم، میڈیا، میوزک اور تخلیقی صنعتوں کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

حکام کے مطابق ان ویزا اصلاحات کے تحت دیگر شعبوں کے ماہرین، ہنر مند کارکنان، ڈیجیٹل انٹرپرینیورز اور فری لانسرز کے لیے بھی سہولیات میں نمایاں توسیع کی گئی ہے۔ نئی ویزا کیٹیگریز کے تحت امیدواروں کو بہتر رہائش، کاروباری مواقع، طویل المدت قیام، فیملی ری یونین اور سماجی استحکام جیسے فوائد حاصل ہوں گے۔

مزید پڑھیں:متحدہ عرب امارات کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، 107 ممالک کے لیے ویزا لازمی، 9 پر عارضی پابندی، کیا پاکستان بھی شامل ہے؟

یہ اصلاحات خاص طور پر انڈینز اور دیگر جنوبی ایشیائی کمیونٹیز کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ یو اے ای میں بڑی تعداد میں جنوبی ایشیائی شہری پہلے سے مقیم ہیں۔ نئی پالیسی کے نتیجے میں انہیں روزگار کے مزید مواقع، مستقل قیام اور ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں بھرپور شمولیت کا موقع ملے گا۔

ماہرینِ معاشیات اور امیگریشن پالیسی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے یو اے ای کی معیشت مزید مستحکم ہو گی اور عالمی سطح پر ٹیلینٹ کی نقل و حرکت میں ایک نیا رجحان سامنے آئے گا۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انٹرٹینمنٹ کے شعبوں میں تیزی سے ترقی متوقع ہے، جبکہ دبئی اور دیگر امارات عالمی ورکرز، تحقیق کاروں اور کریئیٹرز کے لیے ایک پرکشش طویل المدت منزل کے طور پر ابھریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *