تہران پراب تک کی سب سے خوفناک بمباری، بڑے پیمانے پرعام شہریوں کے مارے جانے کاخدشہ

تہران پراب تک کی سب سے خوفناک بمباری، بڑے پیمانے پرعام شہریوں کے مارے جانے کاخدشہ

ایران کے دارلحکومت تہران میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں جنہیں جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کی سب سے طاقتور اور تباہ کن بمباری قرار دیا جارہا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چند گھنٹے قبل ہونے والے حملوں میں تہران کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے اس قدر شدید تھے کہ دور دراز علاقوں تک ان کی آوازیں سنائی دیں جبکہ قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں اور دروازے زور دار جھٹکوں سے لرز اٹھے۔ شہریوں کی بڑی تعداد خوف کے باعث گھروں سے باہر نکل آئی۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز بند ہوئی تو ایران پر قیامت برپا کردیں گے، ٹرمپ کی تازہ دھمکی

اطلاعات کے مطابق یہ حملے حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد سب سے طاقتور حملوں میں شمار کیے جارہے ہیں۔ امدادی اداروں اور سکیورٹی حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔

حکام کے مطابق مشرقی تہران کے علاقے رسالت اسکوائر کے قریب ہونے والے ایک شدید حملے میں کم از کم 40 افراد شہید ہوگئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے شہر کرج میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں بجلی کے نظام کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ حکام کے مطابق بجلی کے نظام کو بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔

اسی طرح ایران کے تاریخی شہر اصفہان میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں حکام کے مطابق گورنر ہاؤس اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ایک تاریخی مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد عالمی سطح پر ثقافتی ورثے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور انسانی بحران کے خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کا بڑا اعلان،خام تیل کی قیمتوں میں 15فیصد کمی

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایرانی میزائل لانچرز کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے۔ کمانڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج ایرانی میزائل نظام کی تلاش جاری رکھے گی اور جہاں بھی یہ نظام موجود ہوگا اسے تباہ کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا کرسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی تو اس کے اثرات خطے سے باہر عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *