مشرقِ وسطٰی میں جنگ کے سیاہ بادل ہٹانے اور تصادم کو روکنے کے لیے ایک اہم ترین سفارتی پیش رفت میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی اعلیٰ سطح کی مذاکراتی ٹیم کے ہمراہ آج صبح اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت میں ہونے والے یہ مذاکرات، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے دیرپا جنگ بندی کے لیے ایک ‘کٹھن مرحلہ’ قرار دیا ہے، عالمی سطح پر انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ جے ڈی وینس کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب کردہ دیگر اہم مذاکرات کار، مشرقِ وسطٰی کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکاف اور صدر کے بااثر داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
نور خان ایئر بیس پر آمد کے موقع پر امریکی وفد کا استقبال پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا۔ جے ڈی وینس، جو حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر امریکی حکام سے روابط کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں، ان مذاکرات میں امریکی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ فروری کے آخر میں جنیوا میں عمان کی ثالثی میں ہونے والے بلواسطہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد، ایران کے لیے جے ڈی وینس ایک زیادہ ‘قابلِ قبول’ شخصیت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔
جارحانہ بیانات کے حامل دیگر امریکی عہدیداروں کے مقابلے میں، جے ڈی وینس اس صورتحال میں ایک ‘گُڈ کوپ’ کے طور پر مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے موزوں تصور کیے جا رہے ہیں۔
ان کے ہمراہ جیرڈ کشنر کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے مگر وہ ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں اپنے بااثر کردار، ‘ابراہم معاہدے’ کے تجربے اور مشرقِ وسطٰی کے سرمایہ کاروں کی حمایت کی وجہ سے مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔
سٹیو وٹکاف، جنہیں صدر ٹرمپ کا ‘گالف پارٹنر’ بھی کہا جاتا ہے، پیچیدہ اور مشکل معاملات میں سیدھی بات کرنے اور راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ اعتماد کا فقدان برقرار ہے کیونکہ پچھلے ادوار میں مذاکرات نتیجہ خیز ہونے سے قبل ہی جنگ شروع ہو گئی تھی، تاہم اسلام آباد میں وائٹ ہاؤس کی اس طاقتور ٹیم کی موجودگی اور پاکستان کی خلوصِ نیت امن کی ایک نئی امید پیدا کر رہی ہے۔