صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں ایران پر 2 بڑے زمینی حملوں کا خفیہ منصوبہ بنا لیا ہے، امریکی میڈیا کا ہوشربا انکشاف

صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں ایران پر 2 بڑے زمینی حملوں کا خفیہ منصوبہ بنا لیا ہے، امریکی میڈیا کا ہوشربا انکشاف

امریکی میڈیا نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر وہاں 2 بڑے زمینی آپریشنز کا حتمی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ مشرقِ وسطٰی میں اپنی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ کر رہی ہے اور ہزاروں میرینز پہلے ہی ہدف کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کا خفیہ منصوبہ بے نقاب، ایران میں فوج بھیجنے کی تیاری  مکمل، منصوبے پر صرف ٹرمپ کے دستخط باقی

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف 2 مخصوص اہداف طے کیے ہیں۔ پہلا آپریشن ایران کے تزویراتی طور پر اہم ترین تیل بردار مرکز ’خارگ جزیرے‘ پر قبضے کے لیے ہوگا، جس کا مقصد تہران کی معیشت کی شہ رگ کاٹنا اور فوجی آپریشنز کے لیے مالی وسائل کو روکنا ہے۔

دوسرا حساس آپریشن ایران کے جوہری مراکز سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لیے کیا جائے گا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا پہلے ہی 3500 میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کر چکا ہے، جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید 3500 فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے مجموعی تعداد 7000 تک پہنچ جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پینٹاگون کا بنیادی کام مختلف فوجی آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو کسی بھی وقت حتمی فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں۔

مزید پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال، امریکا کی درخواست پر پولینڈ کا بڑا فیصلہ

اگرچہ اس منصوبے کو ‘مکمل جنگ’ سے کم درجے کا قرار دیا جا رہا ہے، تاہم عسکری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور سمندری بارودی سرنگوں جیسے شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب، صدر ٹرمپ کے قریبی سیاسی و عسکری حلقوں نے انہیں اس ’ایڈونچر‘ کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ثابت ہوگا جو پورے خطے کو ایسی آگ میں دھکیل سکتا ہے جس سے نکلنا ناممکن ہوگا۔ 2026 کے اس آغاز میں مشرقِ وسطٰی کی یہ صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن کر ابھری ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *