مشرقِ وسطٰی میں جاری کشیدگی اب ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں سے عالمی جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر کھلی دھمکی دیتے ہوئے محض 48 گھنٹے کا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے کہ وہ یا تو کوئی نیا معاہدہ کرے یا فوری طور پر آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھول دے، بصورتِ دیگر اس پر ‘قیامت’ ٹوٹ پڑے گی۔
صدر ٹرمپ کے اس سخت بیان نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھونچال پیدا کر دیا ہے اور تیل کی قیمتیں چند گھنٹوں میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، امریکی صدر کے الٹی میٹم کے بعد امریکی ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل کی قیمت میں 11.41 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 111.54 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح برطانوی برینٹ کروڈ آئل بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 7.78 فیصد اضافے کے ساتھ 109.24 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش، جو کہ عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ ہے، عالمی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے اپنی جارحیت جاری رکھی تو ایران پورے خطے کو ان کے لیے جہنم بنا دے گا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران کو شکست دینے کا دشمن کا خواب اب ایک ایسی دلدل میں بدل چکا ہے جس میں وہ خود ہی دھنس جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مزید مہم جوئی کا جواب پورے خطے میں ایسی شدت سے دیا جائے گا جس کا تصور بھی دشمن نے نہیں کیا ہوگا۔
واضح رہے کہ انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز ایران پر حالیہ حملوں کے بعد سے بند ہے، جس کی وجہ سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
بین الاقوامی برادری اس الٹی میٹم کے بعد شدید تشویش کا شکار ہے، کیونکہ 48 گھنٹے کی یہ مہلت ختم ہونے پر کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں عالمی معاشی ڈھانچہ زمین بوس ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔