چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے اور اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان کے خلاف بات کریں گے تو میں سپورٹ نہیں کروں گا ۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں نے کبھی پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی جماعت ایسا کوئی مؤقف اختیار کرے گی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ ملک میں کشیدگی اور انارکی نہیں چاہتے اور تمام مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالنے کے حامی ہیں، انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس جعفری کو معاملات پر بات چیت کا اختیار دیا ہے، جبکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی جلد متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 14 ماہ گزرنے کے باوجود بانی پی ٹی آئی کی سزاؤں کی معطلی پر فیصلہ نہیں ہو سکا، تاہم عدالت کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ اب مرکزی اپیلوں پر فیصلے کیے جائیں گے،ان کا کہنا تھا کہ عوام سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر قید میں رکھا گیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی اور اہم فیصلوں پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے، پاکستان نے 2025 کے بعد اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کی جماعت نے ہر مثبت اقدام میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے حالیہ فیصلے کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ جوابی کارروائی نہ کرنا ایک دانشمندانہ قدم ہے۔