ایران کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ، آپریشن کو ’فتح خیبر‘ کا نام دے دیا

ایران کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے جوابی حملہ، آپریشن کو ’فتح خیبر‘ کا نام دے دیا

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اچانک اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ کر دیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب یعنی نے اس آپریشن کو ‘فتح خیبر’ کا نام دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ کارروائی ایران کے دشمن کی حالیہ جارحیت کا جواب ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق درجنوں بیلسٹک میزائل اور مسلح ڈرون اسرائیلی اہداف کی جانب داغے گئے۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے ہیں جس کے بعد مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا، صدارتی محل نشانے پر، فضائی حدود، انٹرنیٹ، موبائل سروس بند

اسرائیل کے بڑے شہرتل ابیب اور حیفہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اسرائیلی حکام نے فوری طور پر عوام کو بنکرز میں جانے کی ہدایت جاری کی اور ہنگامی دفاعی نظام فعال کر دیے گئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے شہریوں کو حملوں کی ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے بھی روکا گیا تاکہ حساس معلومات افشا نہ ہوں۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر 30 سے زائد میزائل داغے گئے جنہیں ایرانی دفاعی نظام نے کامیابی سے انٹرسیپٹ کیا۔ ایران نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متعدد دشمن میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی محض انتباہ نہیں بلکہ واضح پیغام ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار، سفارتکاری سے تنازعات حل کرنے کی اپیل

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ وہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے جدید دفاعی نظام آپریٹ کر رہے ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ حالیہ حملوں نے خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب دونوں ممالک کی اگلی حکمتِ عملی پر مرکوز ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں جانب ہائی الرٹ جاری ہے جبکہ عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *