ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا نے کئی ماہ تک بھارت کو روس سے تیل نہ خریدنے پر مجبور کیا، یورپ کو خام خیالی تھی کہ روس کے خلاف امریکی حمایت مل جائے گی اور اب 2 ہفتوں کی جنگ کے بعد امریکا دنیا سے روسی تیل خریدنے کی بھیک مانگ رہا ہے۔
انہوں نے امریکا کی روسی تیل سے متعلق پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے کئی ماہ تک بھارت پر دباؤ ڈالا کہ وہ روس سے تیل کی درآمدات بند کر دے، تاہم ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ کے بعد وائٹ ہاؤس اب دنیا کو روسی تیل خریدنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے کہا کہ انہیں امید تھی کہ ایران کے خلاف غیر قانونی جنگ کی حمایت کے بدلے میں امریکا روس کے معاملے پر ان کی حمایت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران میں سکول پر حملہ، ہیومن رائٹس واچ نے امریکی فوج پر سوالات اٹھا دیئے
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باوجود بھارت کے پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔
The U.S. spent months on bullying India into ending oil imports from Russia. After two weeks of war with Iran, White House is now begging the world—incl India—to buy Russian crude.
Europe thought backing illegal war on Iran would win U.S. support against Russia.
Pathetic. pic.twitter.com/fbkrXpXa9P
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 13, 2026

