واشنگٹن :حالیہ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال سے نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں، جس کے بعد اس فوجی مہم کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایران کو 6 اپریل تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آنے اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب، آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جنگ کے حتمی اسٹریٹجک مقاصد کی وضاحت کریں۔
وزیراعظم البانیز کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی میں کمی دیکھنا چاہتے ہیں اور عالمی برادری کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس فوجی کارروائی کا اصل رخ کس جانب ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری مشن کے آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ مشترکہ طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صنعت کو مفلوج کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم اس مشن کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ابھی کچھ وقت درکار ہوگا۔