امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کے حوالے سے حالیہ سروے کے نتائج نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے مطابق امریکی عوام کی ایک بڑی اکثریت صدر کی حالیہ کارکردگی اور فیصلوں سے نالاں نظر آتی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 59 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جو ان کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مقبولیت میں اس ریکارڈ کمی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور داخلی سطح پر معاشی چیلنجز ہیں جنہوں نے عام شہری کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔
سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خاص طور پر نوجوان ووٹرز اور درمیانے طبقے کے شہریوں میں صدر کے جارحانہ بیانات اور بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے۔
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ‘امریکہ فرسٹ’ کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہیں اور ملک کو ایک نئے جنگی بحران سے بچانے کے لیے سخت فیصلے کر رہے ہیں، لیکن عوامی رائے عامہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ووٹرز اب ان اقدامات کے عملی نتائج اور استحکام کے خواہاں ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مقبولیت کا یہ گرتا ہوا گراف آنے والے وسط مدتی انتخابات اور صدر کی سیاسی ساکھ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کے باعث وائٹ ہاؤس کو اپنی عوامی رابطہ مہم اور حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے بحری جہازوں کی ایران کو بھاری ادائیگیاں، فنانشل ٹائمز کا انکشاف

