ایران کے نومنتخب صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک تفصیلی اور جذباتی خط لکھا ہے جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایرانی قوم امریکی عوام کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، اس خط کا مقصد ان غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے جو مخصوص سیاسی اور معاشی مفادات کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔ صدر پزشکیان نے اپنے خط میں لکھا کہ ایران کو عالمی سطح پر ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا:
ایران انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے جس نے جدید تاریخ میں کبھی جارحیت یا تسلط پسندی کا انتخاب نہیں کیا۔ ایران نے کبھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ خود پر مسلط کی گئی جنگوں کا بہادری سے جواب دیا ہے۔
ایرانی صدر نے امریکی پالیسی سازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایک دشمن کے طور پر پیش کرنا دراصل ان قوتوں کی ضرورت ہے جو اسلحہ کی صنعت کو جاری رکھنا چاہتی ہیں اور عالمی منڈیوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی خواہش مند ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ اس تمام صورتحال میں اسرائیل کے ایک نمائندے کے طور پر کام کر رہا ہے؟ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا درحقیقت ایرانی عوام پر حملہ ہے، جس کے اثرات خطے کی سرحدوں سے بہت آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات کی پاسداری کی، لیکن معاہدوں سے نکلنے اور کشیدگی بڑھانے کے فیصلے ہمیشہ امریکی حکومت کے رہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکومت نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات اور امریکہ، دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ‘آبنائے ہرمز’ کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کو دعوت دی کہ وہ پروپیگنڈے کے نظام سے نکل کر سچائی تلاش کریں اور ان لوگوں سے بات کریں جو خود ایران جا کر وہاں کے حالات دیکھ چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے کا بیان، تیل کی قیمت میں کمی

