پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی کرکٹ ٹیم کے معاملات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے سلیکشن کمیٹی کی از سر نو تشکیل کر دی ہے، ذرائع کے مطابق نئی کمیٹی میں تجربہ کار سابق کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ٹیم کے انتخاب کے عمل کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نئی سلیکشن کمیٹی چار ارکان پر مشتمل ہو گی جس میں سابق قومی کپتان سرفراز احمد، سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز مصباح الحق، سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید اور سابق ٹیسٹ کرکٹر اسد شفیق شامل ہیں۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق ان تجربہ کار شخصیات کی شمولیت سے ٹیم کے انتخاب میں بہتر حکمت عملی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے سابق کپتان سرفراز احمد کو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ سرفراز احمد اپنی نئی ذمہ داریوں کا باقاعدہ آغاز بنگلا دیش کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز سے کریں گے۔
یاد رہے کہ قومی ٹیسٹ ٹیم کے مستقل کوچ کا عہدہ کچھ عرصے سے خالی تھا اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران اظہر محمود کو عبوری ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ تاہم اب بورڈ نے مستقل کوچ کے تقرر کا فیصلہ کر کے ٹیم کے کوچنگ ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز آئندہ برس مئی میں کھیلی جائے گی۔ اس سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ 8 مئی سے شروع ہو گا جبکہ دوسرا ٹیسٹ میچ 16 مئی سے کھیلا جائے گا۔
کرکٹ بورڈ کے مطابق یہ سیریز عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ 2027 کے سلسلے کی اہم کڑی ہے اور دونوں ٹیموں کے لیے اس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اس سیریز کے نتائج عالمی درجہ بندی اور چیمپئن شپ پوائنٹس پر براہ راست اثر انداز ہوں گے۔
میڈیا کی رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کی تشکیل نو کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب معروف امپائر علیم ڈار نے 3 روز قبل سلیکشن کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے استعفے کے بعد بورڈ نے فوری طور پر کمیٹی کے ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے نئی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ سرفراز احمد اور مصباح الحق جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی قومی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ دونوں شخصیات بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور ٹیم کے دباؤ والے حالات کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی سلیکشن کمیٹی اور کوچنگ سیٹ اپ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور آنے والی اہم سیریز میں ٹیم زیادہ منظم اور مضبوط حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔