آسٹریلیا کے لیجنڈ کرکٹر اور سابق کپتان مائیکل کلارک نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کے سینیئر کرکٹرز کو شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چند سینیئر کھلاڑیوں کے لیے یہ آخری ورلڈکپ اور آخری موقع تھا۔
گرین شرٹس کو روایتی حریف بھارت کرکٹ ٹیم کے خلاف یکطرفہ مقابلے میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد نہ صرف شائقین بلکہ سابق کرکٹرز بھی ٹیم کی کارکردگی پر برہم دکھائی دیے۔ میچ کے دوران پاکستانی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار نظر آئی جبکہ باؤلرز بھی حریف ٹیم کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے سابق کھلاڑیوں کے علاوہ غیرملکی کرکٹرز بھی سینیئر پاکستانی پلیئرز کی فارم، فٹنس اور اسٹرائیک ریٹ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید ٹی 20 کرکٹ کی تیز رفتار ضروریات کے مطابق ٹیم میں بڑی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔
کینگروز ٹیم کے سابق کپتان مائیکل کلارک نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم پاکستان نے کیا حکمت عملی اپنائی، لیکن کچھ سینیئر پلیئرز کے لیے یہ آخری ورلڈکپ ثابت ہوا۔ ان کے بقول دونوں ٹیموں کے درمیان معیار کا فرق واضح ہے اور بھارت کافی عرصے سے پاکستان سے آگے ہے، اب یہ فاصلہ مزید بڑھ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ پاکستانی ٹیم کو دیکھیں تو چند سینیئر کھلاڑی ماضی میں شاندار کارکردگی دکھا چکے ہیں، مگر ٹی 20 فارمیٹ میں تسلسل اور جارحانہ انداز کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس ایونٹ میں دکھائی نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید کرکٹ میں نوجوان، فیلڈنگ میں تیز اور پاور ہٹنگ کی صلاحیت رکھنے والے کھلاڑیوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
مائیکل کلارک نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ ٹیم کی ازسرنو تشکیل پر سنجیدگی سے غور کرے اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لیے پاکستان سپر لیگ کو مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرے۔ ان کے مطابق پی ایس ایل میں نوجوان کھلاڑی دباؤ میں کھیلنے کا تجربہ حاصل کرتے ہیں اور انہیں قومی ٹیم میں مواقع دیے جانے چاہییں۔
کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس شکست کے بعد قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے، سلیکشن پالیسی، کپتانی اور ٹیم کمبی نیشن پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شائقین سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔
بھارت کے خلاف اس شکست نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا پاکستان کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق مکمل ری بلڈ کی ضرورت ہے۔ آنے والے مہینوں میں ٹیم مینجمنٹ اور بورڈ کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ قومی ٹیم کس سمت میں آگے بڑھتی ہے۔