امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ عالمی اقدام ’بورڈ آف پیس‘ کو اس وقت پہلا بڑا سفارتی دھچکا لگا، جب یورپ کے اہم ملک اٹلی نے اس میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا۔ اطالوی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بورڈ کا موجودہ ڈھانچہ ملک کے آئین سے متصادم ہے، جس کے باعث اس میں شمولیت قانونی طور پر ممکن نہیں۔
اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ہفتے کے روز واضح الفاظ میں کہا کہ ’اٹلی کسی ایسے بین الاقوامی ادارے کا حصہ نہیں بن سکتا جس کی قیادت کسی ایک غیر ملکی رہنما کے ہاتھ میں ہو‘۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی ’اے این ایس اے‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ہم بورڈ آف پیس میں شرکت نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے آئین میں اس حوالے سے واضح حد موجود ہے، اور یہ معاملہ قانونی نقطۂ نظر سے ناقابلِ قبول ہے‘۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ ابتدا میں اسے غزہ کی تعمیرِ نو اور جنگ کے بعد انتظامی نگرانی کے لیے ایک نیا بین الاقوامی پلیٹ فارم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اب تک سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق بورڈ کے اختیارات کو صرف فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں رکھا گیا، جس کے باعث یہ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اب تک 19 ممالک اس بورڈ کے بانی چارٹر پر دستخط کر چکے ہیں، مگر یورپ کے بڑے اور بااثر ممالک کی ہچکچاہٹ نے اس منصوبے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ’ایک فرد کی قیادت میں عالمی امن کا بورڈ، اجتماعی عالمی نظام کے تصور سے متصادم ہے‘۔
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی، جو ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں، پہلے ہی گزشتہ ماہ ’آئینی مسائل‘ کی نشاندہی کر چکی تھیں۔ انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ واشنگٹن اس فریم ورک پر نظرثانی کر کے نہ صرف اٹلی بلکہ دیگر یورپی ممالک کے تحفظات کو بھی دور کر سکتا ہے۔ تاہم انتونیو تاجانی کے تازہ بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اٹلی نے کم از کم موجودہ شکل میں اس بورڈ کا حصہ بننے کا دروازہ بند کر دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تاجانی نے یہ بیان ایک روز بعد دیا، جب انہوں نے میلان میں اولمپکس کے ایک سفارتی موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تھی، جس سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ انکار محض قانونی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی پیغام بھی ہو سکتا ہے۔
اٹلی اس معاملے میں تنہا نہیں۔ امریکہ کے دیگر قریبی اتحادی، جن میں فرانس اور برطانیہ شامل ہیں، بھی ’بورڈ آف پیس‘ کے ڈھانچے، قیادت اور موجودہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اس کے تعلق پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یورپی ممالک کسی ایسے نظام کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں جو اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کے کردار کو کمزور کر دے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے بورڈ کے خدوخال میں تبدیلی نہ کی تو یہ منصوبہ مزید سفارتی مزاحمت کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے اس کے عالمی اثر و رسوخ پر بھی سوالات اٹھیں گے۔