پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تحریک انصاف کا انتشاری پروپیگنڈا بے نقاب، حقائق سامنے آ گئے

پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تحریک انصاف کا انتشاری پروپیگنڈا بے نقاب، حقائق سامنے آ گئے

حکومتِ پاکستان کے “بورڈ آف پیس” میں شامل ہونے کے فیصلے پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا انتشاری پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا ہے۔

پی ٹی آئی نے اپنے جاری کردہ بیان میں حکومت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی فیصلے مکمل شفافیت، پارلیمانی بحث اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہونے چاہئیں۔

 پی ٹی آئی نے موجودہ پارلیمنٹ کو 2024 کے انتخابات کے تناظر میں غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ “بورڈ آف پیس” میں شمولیت پر نہ صرف پارلیمانی بحث بلکہ سابق وزیر اعظم عمران خان سے مشاورت اور عوامی ریفرنڈم بھی ضروری ہے۔

 پی ٹی آئی نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق ہونی چاہیے اور فلسطین کے معاملے پر کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کی جا سکتی جو فلسطینی عوام کی خواہشات کے خلاف ہو۔

تاہم سامنے آنے والے فیکٹ چیک میں پی ٹی آئی کے ان دعوؤں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے حقائق پیش کیے گئے ہیں۔ فیکٹ چیک کے مطابق پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور آئین کے تحت خارجہ پالیسی بنانا منتخب حکومت کا اختیار ہے۔ کسی بین الاقوامی فورم میں شمولیت کے لیے عوامی ریفرنڈم یا خصوصی منظوری آئینی تقاضا نہیں، جبکہ ماضی میں خود پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی متعدد اہم خارجہ فیصلے پارلیمانی بحث کے بغیر کیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 8اسلامی ممالک کا غزہ بورڈ آف پیس پر مشترکہ اعلامیہ جاری

پی ٹی آئی کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا گیا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ غیر قانونی ہے۔

 فیکٹ چیک کے مطابق پارلیمنٹ آئینی طور پر قائم ہے، ملک کا نظام چلا رہی ہے اور کسی عدالت نے اسے غیر آئینی قرار نہیں دیا۔ سیاسی اختلاف یا ناراضگی کی بنیاد پر ریاستی اداروں کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فیکٹ چیک میں واضح کیا گیا کہ “بورڈ آف پیس” کوئی بین الاقوامی معاہدہ نہیں بلکہ ایک سفارتی فورم ہے، اور ایسے فورمز میں شمولیت کا فیصلہ ایگزیکٹو سطح پر کیا جاتا ہے۔ پارلیمانی بحث نہ ہونے سے فیصلہ غیر آئینی نہیں ہو جاتا۔

اسی طرح یہ مؤقف بھی غلط قرار دیا گیا کہ “بورڈ آف پیس” اقوام متحدہ کے نظام کے خلاف یا اس کا متبادل ہے۔ وضاحت کے مطابق پاکستان بدستور اقوام متحدہ کے فریم ورک کا حصہ ہے اور یہ فورم محض ایک اضافی سفارتی پلیٹ فارم ہے۔

فیکٹ چیک میں اس تاثر کی بھی تردید کی گئی کہ قومی اتفاقِ رائے کی نمائندگی صرف ایک شخصیت کر سکتی ہے۔ مؤقف کے مطابق ریاست شخصیات نہیں بلکہ اداروں کے ذریعے چلتی ہے اور کوئی سابق وزیر اعظم، جسے عدالتیں مجرم قرار دے چکی ہوں، خارجہ پالیسی پر ویٹو پاور نہیں رکھتا۔

فلسطین کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی کے اعتراضات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح، مضبوط اور غیر متبدل ہے، جس کے تحت پاکستان آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کے حق میں کھڑا ہے۔ “بورڈ آف پیس” میں شمولیت اس اصولی مؤقف سے دستبرداری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نےغزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کرلی،دفتر خارجہ

 فیکٹ چیک میں یہ نکتہ بھی اجاگر کیا گیا کہ پاکستان اس فورم میں اکیلا شامل نہیں بلکہ دنیا کے آٹھ بڑے مسلم ممالک بھی اس کا حصہ ہیں، لہٰذا ایک فرد واحد کی خواہش پر پوری مسلم دنیا کے فیصلوں کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسی طرح خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم کے مطالبے کو بھی غیر آئینی اور غیر عملی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ دنیا کا کوئی ملک خارجہ پالیسی پر ریفرنڈم نہیں کراتا اور ریفرنڈم عموماً آئینی یا علاقائی معاملات تک محدود ہوتے ہیں۔

فیکٹ چیک کے مطابق پاکستان کا وقار جذباتی نعروں کے بجائے فعال، متوازن اور حقیقت پسندانہ سفارتکاری سے قائم رہتا ہے، جبکہ دنیا سے خود کو الگ تھلگ کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ریاستی پالیسیاں سیاسی پروپیگنڈے سے بالاتر ہو کر قومی مفاد اور آئینی دائرہ کار میں تشکیل دی جاتی ہیں۔

Related Articles