اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور عدالت نے 15 منٹ کے وقفے کے بعد فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا بہترین علاج جاری ہے اور ان کی صحت تسلی بخش ہے۔ اس پر جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ آپ علاج کروا رہے ہیں۔
جسٹس ارباب طاہر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں ان کے طبی ٹیسٹ کروائے جائیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ٹیسٹ ایک یا دو گھنٹے میں ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں وہاں لے جانے میں کیا مسئلہ ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالت کے پاس اب تک عمران خان کی کوئی باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔
اس موقع پر جسٹس خادم سومرو نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت کے سامنے صرف سپرنٹنڈنٹ جیل کا بیان موجود ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محض اسی بیان کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟
درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو مختلف طبی مسائل درپیش ہیں اور جیل میں موجود طبی سہولتیں ان کے مکمل علاج کے لیے ناکافی ہیں۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی بنیادوں پر انہیں فوری طور پر کسی مناسب اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق جیل میں طبی عملہ موجود ہے اور بوقت ضرورت ڈاکٹرز بھی معائنہ کرتے ہیں۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر 15 منٹ کے وقفے کے بعد فیصلہ سنائے گی۔
سماعت کے دوران عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے مختلف قانونی نکات پر بھی بحث ہوئی۔
واضح رہے کہ عدالت کا فیصلہ اس حوالے سے اہم ہوگا کہ آیا عمران خان کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے گا یا انہیں مزید طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
سیاسی حلقوں اور عوام کی نظریں بھی اس فیصلے پر مرکوز ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف بانی تحریک انصاف کی طبی صورتحال بلکہ آئندہ قانونی کارروائیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
اب سب کی نگاہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر ہیں جو کچھ ہی دیر میں سنایا جائے گا اور جس کے بعد عمران خان کی آئندہ رہائش اور علاج کے حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی۔