مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تنازع کے پائیدار اور جامع حل کے لیے سنجیدہ تجاویز سننے اور ان پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، تاہم یہ بات چیت ابھی باضابطہ مذاکرات کی شکل اختیار نہیں کر سکی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کیجانب سے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، کئی عمارتیں تباہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے، جن میں خلیجی ممالک اور یورپی سفارتی چینلز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان رابطوں کو ابتدائی نوعیت کی سفارتی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی کے امکانات اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک کا جائزہ لینا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان رابطوں کا ایک اہم مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا فوری جنگ بندی ممکن ہے یا نہیں، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی مستقبل کی بات چیت کو صرف عارضی جنگ بندی تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ وہ تنازع کے مکمل، دیرپا اور قابلِ عمل حل پر زور دے رہا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے بنیادی وجوہات کو حل کرنا ناگزیر ہے۔
ایران نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر براہِ راست ردعمل دینے سے گریز کیا، تاہم اس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر کوئی سنجیدہ اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی گئیں تو ان کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ طرزِ عمل ایران کی جانب سے سفارتی دروازے کھلے رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سی این این ذرائع کے مطابق ایران فی الحال واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے گریزاں ہے، جس کی ایک بڑی وجہ باہمی عدم اعتماد اور ماضی کے معاہدوں پر عملدرآمد سے متعلق خدشات ہیں۔ تاہم ایران نے یہ عندیہ ضرور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:امریکہ کا پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ پیش کرنے کا انکشاف
ایرانی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ پرامن مقاصد، جیسے توانائی پیداوار اور سائنسی تحقیق کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مؤقف ایران کے دیرینہ مؤقف کا تسلسل ہے، جس میں وہ عالمی معاہدوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کرتا آیا ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت بظاہر محدود اور محتاط ضرور ہے، لیکن یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ کشیدگی کے باوجود مکمل تعطل نہیں آیا۔ اگر یہ بالواسطہ رابطے جاری رہتے ہیں تو آئندہ ہفتوں یا مہینوں میں باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو گی۔