ایران نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کردی جس سے تل ابیب میں عمارتوں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی شعبہ ہنگامی خدمات کے حکام نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد ملک کے وسطی علاقوں میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیوز میں بنی براک میں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچنے کے مناظر دکھائے گئے، جن میں ایک بالکونی کا گاڑی پر گرنا بھی شامل ہے، جبکہ بعض تصاویر میں ایک عمارت کی بالائی منزل کے فلیٹ کے نچلی منزل پر گرنے کے شواہد ملے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ آج شام کے دوران ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں کے پیش نظر 12 الرٹس جاری کیے گئے۔
ایرانی حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس صحافیوں کو کوریج سے روکنے پر مجبور ہوگئی۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کی اس انہتر ویں لہر میں صیہونی ریجیم کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مقبوضہ علاقوں میں نشانہ بنایا ہے، حملے میں خیبر شکن، ایماد اور سجیل میزائل استعمال کیے گئے جنہوں نے شمالی اور وسطی تل ابیب مین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب کے مطابق تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے کمرشل، لاجسٹک اور سپورٹ مراکز کو بھی ہدف بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے میڈیا کوریج پر پابندی اس بات کا اظہار ہے کہ ایران کس قدر اسرائیل میں تباہی مچا رہا ہے۔
ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ
ادھر اسرائیل کے ایران پر حملے بھی جاری ہیں ، ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے مطابق ایک پروجیکٹائل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے احاطے میں آکر گرا، حملے میں کوئی جانی مالی یا تکنیکی نقصان نہیں ہوا، اور نہ ہی پلانٹ کے مختلف حصوں کو کوئی نقصان پہنچا۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (اے ای او آئی) نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن نیوکلیئر تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو ایسے مراکز کو فوجی کارروائی سے استثنا دیتے ہیں، اس کے علاقائی سلامتی پر خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کی بیروت کے جنوبی مضافات کے علاقوں کو خالی کرنے کی دھمکیاں
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے متعدد محلوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر انخلا کی دھمکی دی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج بیروت کے جنوبی علاقوں میں موجود حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھے گی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا تھا کہ دشمن کے مکمل سرنڈر تک جنگ پوری شدت اور طاقت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں واشنگٹن صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے راستے محدود ہو گئے ہیں۔