وفاقی دارالحکومت میں قائم فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایران سمیت 4 خلیجی ممالک میں میٹرک کے جاری امتحانات فوری طور پر ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ طلبہ کے تحفظ کو ہر صورت ترجیح دی جا رہی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایران، کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں قائم تمام امتحانی مراکز پر ہونے والے میٹرک کے پرچے غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔ بورڈ کے مطابق ان ممالک کے لیے رول نمبر سلپس کا اجرا بھی فوری طور پر روک دیا گیا ہے تاکہ نئی صورتحال کے مطابق شیڈول کو ازسرِنو ترتیب دیا جا سکے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ان ممالک میں حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، فضائی حدود کی ممکنہ بندش، سفری پابندیاں اور سیکیورٹی خدشات اس فیصلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امتحانات کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر تھے۔
فیڈرل بورڈ نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک قائم دیگر تمام امتحانی مراکز، جن میں یورپ، ایشیا اور دیگر خطے شامل ہیں، وہاں امتحانات پہلے سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے۔ تاہم متاثرہ طلبہ کے لیے متبادل انتظامات پر غور شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں پاکستان یا کسی قریبی محفوظ ملک میں امتحان دینے کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی اور بیرونِ ملک امتحانی مرکز پر بھی لاجسٹک یا سیکیورٹی مسائل سامنے آئے تو فوری طور پر متبادل انتظامات کیے جائیں گے، جن میں امتحانی مراکز کی منتقلی یا تاریخوں میں ردوبدل شامل ہو سکتا ہے۔ بورڈ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی طالب علم کے تعلیمی سال کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے وقتی طور پر طلبہ کو ذہنی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ ایک ضروری قدم ہے۔ والدین نے بھی مجموعی طور پر اس فیصلے کو سراہا ہے اور اسے طلبہ کی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
فیڈرل بورڈ کے مطابق اس صورتحال کا 15 دن بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ اگر سیکیورٹی حالات بہتر ہو گئے تو نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا جائے گا، جبکہ حالات معمول پر آنے کی صورت میں باقی تمام پرچے پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی لیے جائیں گے۔ حکام نے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں اور افواہوں سے گریز کریں۔