روسی صدر ویلادیمیر پیوٹن نے نوروز کے موقع پر ایران کی حکومت اور عوام کے نام تہنیتی پیغام میں بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق روسی صدر نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ روس مشکل وقت میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے لیے ثابت قدمی، طاقت اور حوصلے کی دعا بھی کی۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران روس اور ایران کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مختلف معاہدوں نے دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا ہے، جسے خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان روس کی جانب سے ایران کی کھلی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل روس زیادہ تر خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ رابطوں میں صدر پوٹن نے جنگ بندی کی تجویز بھی پیش کی تھی، جس میں ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کا منصوبہ شامل تھا، تاہم امریکہ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ روس ایران کو امریکی فوجی اڈوں سے متعلق معلومات فراہم کر رہا ہے، تاہم کریملن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: روس کا ایران سے عسکری تعاون میں اضافہ، سیٹلائٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا انکشاف

