وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز اور کامیابی پاکستان کو اس مقام پر کھڑا کرتا ہے جو 78 سالہ تاریخ میں پہلے حاصل نہیں ہوا۔خواجہ آصف نے کہا کہ خلیجی ممالک، ایران اور دیگر ممالک پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔
سپر پاور امریکہ بھی پاکستان کی قابلیت کو تسلیم کر رہا ہے، یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے،تاہم انہوں نے کہا کہ ثالثی کے نتائج پر ابھی بات کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے بھارت کے بارے میں کہا کہ ایک سال قبل جنگ میں اسے ہزیمت اٹھانی پڑی اور آج وہ فرسٹریشن کا شکار ہےپاکستان کی مسلح افواج کی کامیابی ساری دنیا نے دیکھی، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بار بار پاکستان کی کامیابی کا ذکر کرتے رہے۔
انہوں نے اسرائیل اور بھارت کو عالمی سطح پر تنہا اور شکست خوردہ قرار دیا اور کہا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ پنگا لے گا تو اسے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔
خواجہ آصف نے دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان افغانستان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں کے خلاف ملٹری ایکشن جاری ہے، جارحیت کا جواب آپریشن کی صورت میں دیا جا رہا ہے اور نتائج سامنے آ رہے ہیں۔