امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کے بعد خطے میں مستقل امن کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، اسی سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف آج اہم غیر ملکی دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں ان کا پہلا پڑاؤ سعودی عرب ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے سرکاری دورے کریں گے، جن کا مقصد دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کو فروغ دینا اور امریکا ایران کے درمیان ممکنہ حتمی معاہدے کے حوالے سے سفارتی ہم آہنگی بڑھانا ہے۔
سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ نوعیت کے ہوں گے، جہاں وزیراعظم متعلقہ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور باہمی تعاون، علاقائی امن و سلامتی اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ میں پانچویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں بھی شرکت کریں گے، جہاں وہ عالمی رہنماؤں کے ہمراہ لیڈرز پینل میں شریک ہو کر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت دیگر عالمی شخصیات سے اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، اور وزیراعظم دوست ممالک کے ساتھ قریبی مشاورت کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھانے کی سفارتی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔