پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ طبی معائنے اور علاج میں مزید تاخیر ناقابل قبول ہے، ہر گزرتا گھنٹہ قیمتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی میڈیا پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے رپورٹس تشویشناک ہیں اور انہیں فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستند میڈیکل بورڈ کے ذریعے تفصیلی معائنہ کرایا جائے اور علاج کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون اور انسانی حقوق کے تحت ہر قیدی کو مناسب طبی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر علاج میں غفلت برتی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کی جانب سے تاحال اس بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف طبی رپورٹ اور باقاعدہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل ہی صورتحال کو واضح کر سکتی ہے۔ فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ جیل رولز کے مطابق کسی بھی قیدی کو طبی سہولت فراہم کرنا پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے، لہٰذا جیل حکام اور صوبائی حکومت اس معاملے میں جوابدہ ہیں۔
ان کے مطابق رپورٹس اگر درست ہیں اور طبی مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو یہ ایک سنگین معاملہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہو یا عام قیدی، صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اگر ڈاکٹرز کی رائے میں علاج بیرون جیل یا بیرون ملک ضروری قرار پاتا ہے تو فیصلہ مکمل طور پر طبی بنیادوں پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی اور مصلحت کے تحت۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے دعوؤں اور عمران خان کی ہمشیرہ کے سابق بیان میں تضاد،سوشل میڈیا پرسوالات

