پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطٰی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کے مستقل حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ نے عالمی وفود کو ممکنہ امریکا اور ایران مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا ہے، جن کے انعقاد کے لیے اسلام آباد کو ایک ممکنہ مقام کے طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے اور اس تجویز کو برادر ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اور چین نے خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مشترکہ 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا ہے۔
اس منصوبے میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس اہم سمندری راستے کو جلد از جلد معمول کے مطابق کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے حالیہ دورۂ چین کے دوران پیش کیا گیا، جہاں انہوں نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی سے تفصیلی ملاقات کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی سطح پر رابطوں کا جال پھیلا دیا ہے۔ 27 مارچ کو کویت کے ولی عہد نے وزیراعظم سے رابطہ کر کے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور ایران و امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے اسلام آباد کے کردار کی حمایت کی۔
28 مارچ کو وزیراعظم نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جنہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کا خیر مقدم کیا اور اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی طرح 31 مارچ کو یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی وزیراعظم سے رابطہ کر کے مشرقِ وسطٰی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
سفارتی محاذ پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی رابطہ کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے عالمی امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی 4 ملکی حالیہ مشاورت (سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور پاکستان) نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ فوجی تصادم کے خطرے کو روکنے کے لیے مسلم اُمہ کا اتحاد اور مشترکہ سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔
پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ہی دیرپا امن کی بنیاد ہے۔