ایران کا بڑا اعلان، جنگ کے خاتمے کا فارمولا پیش، 3 سخت ترین شرائط رکھ دیں

ایران کا بڑا اعلان، جنگ کے خاتمے کا فارمولا پیش، 3 سخت ترین شرائط رکھ دیں

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے 3 اہم شرائط پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا، نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کرنا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے گفتگو کے دوران خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایران کے عزم کو دوبارہ واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ سے خطے میں امن اور تعاون کا خواہاں رہا ہے مگر اس کے قومی مفادات اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران ڈٹ گیا، پہلے سے زیادہ تیار ہیں، عباس عراقچی کا امریکا کو بڑا پیغام

مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ نے پورے خطے کو ایک خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان طاقتوں کی کارروائیوں نے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔

ایرانی صدر کے مطابق اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، حالیہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے اور آئندہ کسی بھی جارحیت کے خلاف واضح اور مؤثر بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے جو انصاف، احترام اور برابری کی بنیاد پر قائم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری واقعی خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے تنازع کے بنیادی اسباب کو تسلیم کرتے ہوئے ایک منصفانہ حل تلاش کرنا ہوگا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی پالیسی ہمیشہ خطے میں استحکام اور امن کو فروغ دینے کی رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم اس کے قومی مفادات اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات جمعےکو مسقط میں ہوں گے: ایرانی و امریکی حکام کی تصدیق

مسعود پزشکیان کے مطابق اگر ایران کے مطالبات کو تسلیم کر لیا جائے تو جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے اور عالمی برادری اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط مستقبل کے ممکنہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب کئی عالمی طاقتیں بھی اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو فوری طور پر کم کیا جائے اور تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں تاکہ ایک بڑے جنگی تصادم سے بچا جا سکے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *