وفاقی وزیر عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق سے متعلق اہم اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران افغان طالبان رجیم کے 297 کارندے ہلاک جبکہ 89 حفاظتی چوکیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں،135 بکتر بند اور بھاری مسلح گاڑیاں بھی نشانہ بنا کر ناکارہ کر دی گئی ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ یہ کارروائی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر کی گئی اور اس کا مقصد سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کا مؤثر خاتمہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اداروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ تباہ کی جانے والی حفاظتی چوکیاں وہ مقامات تھے جہاں سے سرحد پار دراندازی اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ کارروائی کے دوران اسلحہ کے ذخائر اور مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچایا گیا تاکہ مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کا سدباب یقینی بنایا جا سکے
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا،انہوں نے کہا کہ اگر دشمن کو فیصلہ کن جواب دیا جارہا ہے۔