ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انقلاب پاسداران کی جانب سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے جس کے بعد دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستے پر شدید بے یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہےآبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ دنیا کا بڑا حصہ خام تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی پابندی عالمی معیشت اور تیل کی منڈی پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہےان حملوں کے بعد ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف کارروائیوں کا جواب دے گا۔
اسی تناظر میں ایران نے نہ صرف سمندری راستوں پر سختی کا عندیہ دیا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
مختلف رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں امریکی دفاعی تنصیبات پر مزائل حملے کیے جارہے ہیں ، جس کے باعث کئی ممالک نے سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیے ہیں۔
اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل سے وابستہ کمپنیاں، شپنگ ادارے اور انشورنس کمپنیاں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں آمدورفت واقعی معطل ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر اسرائیل کے حملوں، ایران کے ردعمل، امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی پیغام نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر ایک خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔