آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس اقدامات اور جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے دائرہ کار میں توسیع کے باعث گھریلو استعمال کی 36 اہم اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس سے عام صارفین خصوصاً متوسط اور غریب طبقہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔
بجٹ دستاویزات اور ایف بی آر کے ابتدائی خاکے کے مطابق حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر 650 ارب روپے کے اضافی محصولات حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے اثرات براہ راست عام استعمال کی اشیاء پر پڑیں گے۔
جن اشیاء پر جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکس اقدامات کے باعث قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے ان میں دودھ، ڈیری مصنوعات، میٹھائیاں، جام، جیلی، کیچپ، مصالحہ جات، خوردنی تیل، گھی، کراکری، ہیئر آئل، شیمپو، جوتے، پرفیوم، باڈی اسپرے، بیکری آئٹمز، پلاسٹک کی گھریلو اشیاء، سینیٹری آئٹمز، باتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر، واش روم کے لوازمات، سوٹ کیس، کیمرے، کچن ویئر، سفری بیگ، زرعی ادویات اور مختلف جراثیم کش مصنوعات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ الیکٹرانکس سمیت دیگر برانڈڈ اور پیک شدہ اشیاء بھی تھرڈ شیڈول میں توسیع کے بعد مہنگی ہو جائیں گی۔
بجٹ میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ای سگریٹ اور لائف انشورنس پالیسیوں سمیت لگژری گاڑیوں پر بھی ٹیکس بڑھانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق مجموعی طور پر 39 ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جن میں 11 ریلیف، 10 ریشنلائزیشن جبکہ باقی اقدامات نفاذِ قانون اور کسٹمز اصلاحات پر مشتمل ہیں۔
نفاذِ قانون اور انتظامی اقدامات سے 400 ارب روپے جبکہ ٹیکسیشن اقدامات سے 250 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے۔