وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے مالی ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی تھی تاہم وفاقی کابینہ نے مہنگائی کے دباؤ اور ملازمین کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اضافے کو بڑھا نے کا مطالبہ پیش ہوا۔
ذرائع کے مطابق تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق وفاقی حکومت کے تمام مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین پر ہوگا جبکہ اس اقدام سے لاکھوں سرکاری ملازمین مستفید ہوں گے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی کے باعث ملازمین کی قوتِ خرید متاثر ہوئی، جسے بہتر بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنشنرز کے لیے بھی بجٹ میں ریلیف رکھا گیا ہے اور ان کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اضافے کا مقصد ریٹائرڈ ملازمین کو بڑھتے ہوئے اخراجات کے بوجھ سے کچھ حد تک تحفظ فراہم کرنا ہے۔
بجٹ حکام کا کہنا ہے کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے سرکاری اخراجات میں اضافہ ہوگا، تاہم ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں وفاقی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ سرکاری ملازمین کے لیے وقتی ریلیف ثابت ہوگا، تاہم حقیقی فائدہ اس وقت ممکن ہوگا جب مہنگائی کی شرح میں بھی نمایاں کمی آئے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جائے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر کے سرکاری ملازمین تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے اور بجٹ سے بڑی توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے۔ حکومت کے اس فیصلے کو ملازمین اور پنشنرز کے لیے اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔