حکومت نے نوجوان انجینئرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور انہیں عالمی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک منظم تربیتی پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد ایسے ماہر انجینئرز تیار کرنا ہے جو صوبے کی ترقی اور انفراسٹرکچر کے موثر نظام کے لیے فعال کردار ادا کر سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت بلوچستان اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ بھی طے پا گیا ہے، جس کے تحت تربیتی منصوبے کو عملی شکل دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق پروگرام کے تحت فارغ التحصیل نوجوان انجینئرز کو چھ ماہ پر مشتمل جامع پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس تربیت کے دوران نوجوان انجینئرز کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ بھی دیا جائے گا، جس کا مقصد انہیں مالی معاونت فراہم کرنا اور تربیت کے دوران معاشی پریشانیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ تربیتی پروگرام کا پہلا بیچ مجموعی طور پر 300 انجینئرز پر مشتمل ہوگا، جس کا آغاز یکم جنوری 2026 سے کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس پروگرام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو جدید مہارتوں سے لیس اور تکنیکی طور پر مضبوط انجینئرز کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نوجوان جن کے پاس معیاری تربیت ہو، وہ بلوچستان کے ترقیاتی نظام کو نہ صرف بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اسے زیادہ مؤثر، جدید اور مستحکم بھی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نوجوان انجینئرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مکمل ادارہ جاتی معاونت فراہم کرے گی اور اس حوالے سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ تربیتی پروگرام نوجوان انجینئرز کے لیے سرکاری شعبے میں عملی تجربے کے نئے مواقع فراہم کرے گا، جہاں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبائی حکومت انجینئرنگ کے شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ بلوچستان کے نوجوان بین الاقوامی سطح پر بھی مسابقت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس اقدام سے نہ صرف نوجوانوں کی پیشہ ورانہ ترقی ممکن ہو گی بلکہ صوبے کے مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کو بھی مضبوط بنیاد فراہم ہو گی۔