کوئٹہ میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی گھریلو صارفین کو گیس کے کم دباؤ کا سامنا بڑھ گیا ہے، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے گیس کا پریشر بڑھانے کے لیے غیر قانونی طور پر کمپریسر استعمال کرنے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسسٹنٹ کمشنرز اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کمپریسر فروخت کرنے، لگانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کمپریسر استعمال کرنے والے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ وہ دوسرے صارفین کے حصے کی گیس بھی کھینچ لیتے ہیں، جس کے باعث کئی علاقوں میں پریشر مزید کم ہو جاتا ہے۔
ملک بھر میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی گیس کے دباؤ میں کمی کی شکایات بڑھ جاتی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر گھریلو صارفین پر پڑتا ہے۔ کم پریشر کی وجہ سے نہ تو بروقت کھانا تیار ہو پاتا ہے، نہ ہی نہانے کے لیے گرم پانی دستیاب ہوتا ہے اور نہ ہی گیس ہیٹر چل پاتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
غیر قانونی کمپریسرز کے استعمال سے نہ صرف پریشر مصنوعی طور پر بڑھ جاتا ہے بلکہ یہ آلات گھر میں گیس بھرنے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ گیس جمع ہونے کی صورت میں سوتے میں دم گھٹنے، آگ بھڑکنے اور دھماکوں جیسے خطرناک حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق گیس کمپریسر ایک الیکٹریکل ڈیوائس ہے جو پائپ لائن میں موجود گیس کو اپنی طرف کھینچ کر چولہے، ہیٹر یا گیزر کے برنر تک پہنچاتا ہے، اور یہی عمل گیس کے غیر محفوظ جمع ہونے کا سبب بنتا ہے۔
مزید برآں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ کمپریسر استعمال کرنے والے صارفین کو بل بھی زیادہ موصول ہوتا ہے، جس کی ادائیگی اکثر ان کے لیے مشکل ہو جاتی ہے۔ گیس کا بے جا کھینچاؤ نہ صرف دیگر گھروں کا حق مارنے کے مترادف ہے بلکہ یہ انسانی جانوں کے لیے بڑا خطرہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح کے حادثات اکثر مالی نقصان اور جائیداد کی تباہی کا باعث بھی ہوتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور SSGC حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اس کریک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ گیس کمپریسر کا استعمال ترک کریں اور اس خطرناک عمل میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرکے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔