رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی حکام نے کولکتہ ٹیسٹ کے بعد گوتم گمبھیر کی پریس کانفرنس میں جارحانہ لب و لہجے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ان کے اندازِ گفتگو نے بورڈ کے کئی سینیئر ارکان کو ناخوش کیا، جس کے بعد اندرونی حلقوں میں ان کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ’گمبھیر کے پاس غلطیوں کو درست کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں بچا‘۔
ماہرین اور سابق کرکٹرز نے بھی ٹیم کی حالیہ ناکامیوں کا ذمہ دار گمبھیر کے منتخب کردہ ٹیم کمبی نیشن کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ اسپیشلسٹ بیٹرز اور بولرز کے بجائے آؤٹ آف فارم آل راؤنڈرز اور پارٹ ٹائمرز پر انحصار کر رہے ہیں، جو ٹیسٹ کرکٹ جیسے فارمیٹ میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ’ٹیسٹ کرکٹ میں مستقل مزاجی اسپیشلسٹس سے آتی ہے، تجربات سے نہیں‘۔ میڈیا رپورٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہوم کنڈیشنز میں ہونے والا ٹی20 ورلڈکپ 2026 گوتم گمبھیر کے مستقبل کا فیصلہ کن امتحان ہوگا۔ اگر بھارت کی کارکردگی متاثر رہی یا بڑے میچز میں ٹیم ناکام ہوئی تو بی سی سی آئی کے لیے ہیڈ کوچ کی تبدیلی ناگزیر ہو جائے گی۔
کرکٹ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ گمبھیر نے کپتانی کے دور میں اپنی جارحانہ سوچ سے شہرت حاصل کی تھی، مگر کوچنگ میں وہی انداز ٹیم کی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ شائقین بھی حالیہ کارکردگی پر سخت مایوس ہیں اور ٹیم مینجمنٹ سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارتی ٹیم اگلی سیریز سے قبل ایک بار پھر اپنی حکمت عملی کا جائزہ لے رہی ہے اور ممکن ہے کہ سلیکشن پینل بھی اسکواڈ میں اہم تبدیلیاں کرے۔ گمبھیر کیلئے یہ آنے والے چند مہینے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔