پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے متعدد علاقوں میں اتوار کی صبح زلزلے کے ہلکے مگر واضح جھٹکے محسوس کیے گئے۔
بلوچستان کے مختلف شہروں سے موصولہ رپورٹس کے مطابق سرحدی شہر چمن اور اس کے گردونواح، جبکہ لورالائی اور قریبی علاقوں میں بھی زمین لرز اٹھی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.5 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 20 کلومیٹر تھی۔
حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز لورالائی سے تقریباً 23 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
کئی افراد نے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے محفوظ مقامات کی جانب رخ کیا۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم متعلقہ اداروں کی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں احتیاطی تدابیر پر عمل کریں جبکہ مقامی حکام لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ افواہوں سے گریز کریں اور سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
واضح رہے کہ 27 نومبر کو انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں 6.2 شدت کا طاقتور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم زلزلے کے بعد کسی سونامی کی وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی۔
انڈونیشین میٹرو لوجیکل اور جیو فزیکل ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز سولاویسی کے ساحلی حصے کے قریب تھا، جبکہ زلزلے کی گہرائی تقریباً 105 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔ گہرائی زیادہ ہونے کے باعث جھٹکوں کی شدت سطح زمین پر نسبتاً کم رہی، مگر پھر بھی لوگوں میں شدید خوف پایا گیا تھا۔
ریسکیو اور مقامی انتظامیہ کے مطابق فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ کئی علاقوں میں لوگ گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے جبکہ بعض مقامات پر معمول کی سرگرمیاں کچھ دیر کے لیے معطل رہیں۔ ادھر حفاظتی اداروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ زلزلے کے بعد ممکنہ آفٹر شاکس آ سکتے ہیں کمزور دیواروں یا ڈھانچوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔