کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ملک کے معدنیاتی شعبے اور ریکوڈک منصوبے سے متعلق جامع رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معدنیات کی صنعت میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سی سی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نایاب اور قیمتی معدنیات سے مالا مال ملک ہے جہاں سونا، چاندی، تانبہ، پلاٹینم اور جیم اسٹون کے وسیع ذخائر موجود ہیں، تاہم ان وسائل کو جدید تقاضوں کے مطابق استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریکوڈک منصوبہ آئندہ 37 سالوں میں پاکستان کو تقریباً 74 ارب ڈالر کی آمدنی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منصوبہ اپنی شفاف ٹریس ایبلٹی اور جدید ترین ریفائننگ صلاحیت کے باعث سونے کی سپلائی چین کو مستحکم بنانے میں بڑا کردار ادا کرے گا۔
سی سی پی کی رپورٹ میں گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی کے قیام کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اتھارٹی کے تحت ڈیجیٹل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور گولڈ بینکنگ سسٹم کے آغاز سے غیر دستاویزی تجارت میں واضح کمی متوقع ہے، جس سے گولڈ مارکیٹ کی شفافیت میں اضافہ ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی اور سی سی پی کے مؤثر اقدامات سے ریفائننگ اور زیورات سازی کی صنعت کو فروغ ملے گا، جبکہ جدید ضوابط اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے مارکیٹ میں شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق ترقی ممکن ہوگی۔
علاوہ ازیں ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے مقامی عوام کے لیے بھی معاشی امکانات کے نئے دروازے کھولے گا۔ منصوبے کے تحت ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی اور نئے کاروباری مواقع فراہم ہوں گے، جس سے صوبے میں روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
سی سی پی نے رپورٹ میں اس امر پر زور دیا کہ ایس آئی ایف سی پاکستان میں کان کنی کے مختلف شعبہ جات کی ترقی کے لیے اپنا انقلابی کردار ادا کر رہا ہے، اور اسی تعاون کی بدولت ملکی معدنیاتی صنعت کو عالمی معیار پر استوار کیا جا سکتا ہے۔