آئندہ سیزن کے لئے گندم کا متوقع سرکاری ریٹ سامنے آگیا

آئندہ سیزن کے لئے گندم کا متوقع  سرکاری ریٹ سامنے آگیا

فیصل آباد میں منعقدہ ایک اہم مشاورتی اجلاس میں آئندہ سیزن کے لیے گندم کی قیمت سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فیصل آباد کمشنر آفس میں ہونے والے اس اجلاس میں بتایا گیا کہ فیصل آباد ڈویژن میں گندم کی کاشت کا 99 فیصد ہدف مکمل کر لیا گیا ہے، جو موجودہ سیزن کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

اجلاس کے دوران وزیرِ زراعت نے بتایا کہ کسانوں کو بہتر ریلیف فراہم کرنے اور مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے گندم کا سرکاری ریٹ 3500 روپے فی من مقرر کیے جانے پر مشاورت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف کسانوں کو مالی طور پر سہارا دینا ہے بلکہ مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کو بھی روکنا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے زرعی صوبے پنجاب میں گندم کی پیداوار ملک کی مجموعی پیداوار کا بڑا حصہ ہوتی ہے اور اس صوبے کی صورتحال پر پوری وفاقی غذائی سلامتی کا انحصار ہوتا ہے۔ 2024-25 کے ربیع سیزن کے لحاظ سے قومی سطح پر گندم کی پیداوار تقریباً 28.44 ملین میٹرک ٹن (MMT) رہی، جس میں سے پنجاب نے تقریباً 22.05 MMT فراہم کی جو کہ ملک کی کل پیداوار کا غالب حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گندم کاریٹ 4500روپے من نہ دیا گیا تو کاشت نہیں کریں گے ،کسان اتحاد نےحکومت کو وارننگ د یدی

ذرعی ماہرین کے مطابق، پنجاب کا وسیع رقبہ زیر کاشت ہے اور رواں دہائی میں گندم اس صوبے میں سب سے اہم غذائی فصل ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں بڑھتے زرعی چیلنجز، موسمی غیر یقینی اور کسانوں کی مائلت بدلنے سے پیداوار کے حجم اور استحکام میں تفریق دیکھی گئی ہے۔

حالیہ سیلابی صورتِ حال نے کسانوں اور زرعی انڈسٹری کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اگرچہ فی الحال 2025 کے موسمِ بہار/ربیع کے حوالے سے حتمی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی، مگر ذرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارشیں غیر متوقع ہوں یا سیلاب کا سلسلہ جاری رہا تو گندم کی کاشت اور ذخیرہ کاری دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔

گذشتہ برسوں میں، کسانوں نے حکومت کی جانب سے امدادی قیمت (Support Price) اور سرکاری خریداری حکمتِ عملی میں تبدیلیوں کے باعث گندم کی بجائے نقد منافع دینے والی فصلوں جیسے سرسوں یا دالوں کی طرف جھکاؤ بڑھایا۔ اس کے نتیجے میں رقبہِ زیرِ کاشت بھی کم ہوا۔

 اگر سیلاب کی صورتحال تشویشناک رہی، جیسے 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پورے ملک میں زرعی رقبے اور فصلوں کو نقصان پہنچایا تھا، تو ممکن ہے کہ گندم کی اگلی فصل اور گودامی ذخائر شدید متاثر ہوں۔ ایک تحقیقی مطالعہ کے مطابق سیلاب نے کئی اضلاع میں زرعی زمین اور فصلوں کو اثر انداز کیا، جس نے اگلی فصل کی تیاری پر منفی اثرات ڈالے۔

یہ بھی پڑھیں: کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہیں : وزیراعظم

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور دیگر اضلاع میں زیرِ آب آنے والی اراضی اور کسانوں کی نقل و حرکت صحیح انداز میں نہ سنبھالی گئی تو گندم کا رقبۂ کاشت کم ہوسکتا ہے، اور ذخیرہ شدہ اناج کے گودام بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف صوبائی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ ملک بھر میں آٹے اور روٹی کی قیمتوں پر بھی دباؤ پڑے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *