قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد نواز ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد تحقیقات کی زد میں آ گئے ہیں، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے باضابطہ کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، اس پیش رفت نے کرکٹ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیرِ غور آ چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس معاملے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کر دیا ہے، جس کے بعد بورڈ نے فوری طور پر اپنی تحقیقات شروع کر دیں، نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ پی سی بی اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آج آئی سی سی کو ارسال کرے گا تاکہ آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ ٹی ٹوئنٹی عالمی مقابلوں کے دوران لیا گیا تھا جو مثبت آیا، اس پیش رفت کے بعد انگلینڈ کی معروف کاؤنٹی ٹیم سرے نے بھی محمد نواز کے ساتھ اپنا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے، جو کھلاڑی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب آئی سی سی نے اس معاملے پر فی الحال کوئی باضابطہ بیان دینے سے گریز کیا ہے۔
ادھر محمد نواز نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے عالمی مقابلوں کے دوران کسی بھی قسم کی غیر قانونی ادویات استعمال نہیں کیں۔
قریبی ذرائع کے مطابق کھلاڑی نے سنٹرل اے ٹیسٹ کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ اس رپورٹ میں غلطی کا امکان موجود ہے۔
محمد نواز نے اپنے مؤقف کے حق میں سنٹرل بی ٹیسٹ کے لیے دوبارہ نمونہ جمع کروا دیا ہے، جس کی رپورٹ 30 اپریل تک آنے کی توقع ہے، اس دوسرے ٹیسٹ کے نتائج اس معاملے میں اہم کردار ادا کریں گے اور اسی کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اگر دوسرا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تو محمد نواز کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم اگر رپورٹ منفی آئی تو کھلاڑی کو ریلیف ملنے کا امکان ہے،اس وقت تمام نظریں آنے والی رپورٹ پر مرکوز ہیں جو اس حساس معاملے کا رخ متعین کرے گی۔