آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان تناؤ نے عالمی تیل منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید بگڑتی ہے تو دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوگا۔
تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 3 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ بھی 2.87 فیصد مہنگا ہو کر 94 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
ابوظہبی کا مربان کروڈ 4.88 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا ہے، جو کہ مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کی ممکنہ بندش کے خدشات کا براہ راست نتیجہ ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور پس منظر
آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک تنگ سمندری راستہ ہے جو عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دنیا کے سب سے اہم سمندری چوک پوائنٹس میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی ہیں۔
یہ عالمی سطح پر سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی کل تجارت کا تقریباً 20 فیصد سے 25 فیصد حصہ بنتا ہے۔ سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کی چوڑائی سب سے تنگ مقام پر صرف 21 میل (33 کلومیٹر) ہے، جس میں جہاز رانی کے لیے صرف 2 میل چوڑی لین دستیاب ہے۔
حالیہ کشیدگی میں ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر فائرنگ اور قبضے کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ اور خطے میں بحری بیڑوں کی موجودگی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کرنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق، کشیدگی کی وجہ سے ٹینکرز کی آمد و رفت معطل ہوئی ہے، جسے “تاریخ کا سب سے بڑا سپلائی شاک” قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات فوری اور شدید ہوتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں، لہٰذا اس کی بندش عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں، جس سے عالمی مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ یہ صورتحال عالمی اقتصادی بحالی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔