بالکل بے فکر رہیں اصل نوٹیفکیشن جلد آئے گا، وزیر قانون

بالکل بے فکر رہیں اصل نوٹیفکیشن جلد آئے گا، وزیر قانون

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالکل بے فکر رہیں، اصل والا نوٹیفکیشن آنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو بھی کام کرتی ہے وہ اپنے مقررہ فریم ورک کے مطابق کرتی ہے، اور آج کوئی غیر معمولی خبر نہیں بلکہ تمام معاملات معمول کے مطابق ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نظام چلانے کے لیے ایک واضح فریم ورک موجود ہوتا ہے اور حکومت اسی کے مطابق آگے بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سزا یافتہ قیدی کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ نہیں رہ سکتا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیل قوانین کے مطابق ملاقات میں ہونے والی بات کو پبلک نہیں کیا جا سکتا، اور آج بھی وہی قوانین نافذ ہیں جو دہائیوں سے رائج الوقت ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ ہیں اور جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ ان کے کچھ معاملات اب بھی انڈر ٹرائل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی کا کنٹرول پنجاب حکومت کے پاس ہے، اور جیل قوانین کے مطابق کسی بھی قیدی کو ہفتے میں صرف ایک خط لکھنے اور ایک ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں رول کے مطابق ملاقات میں 6 سے زیادہ لوگ شامل نہیں ہو سکتے، اور رول 548 کے مطابق کوئی بھی قیدی سپرنٹنڈنٹ جیل کی موجودگی کے بغیر ملاقات نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکورٹی کو ہائی الرٹ کردیاگیا

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی قیدی کو وہ سہولیات نہیں دی گئیں جو بانی پی ٹی آئی کو میسر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی قیدی کو جاگنگ مشین نہیں ملتی، لیکن بانی پی ٹی آئی کو خصوصی سہولتیں دی گئی ہیں۔ عطا تارڑ نے بتایا کہ آج سے عظمیٰ خان کی ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے کیونکہ ان کی پارٹی کی ایک خاتون رہنما نے بھارتی اور افغانی میڈیا کو اس طرح کی فیڈ دی کہ بانی پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جس جس نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے، ان کی ملاقات بند کر دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا فیصلہ ہے کہ اگر اب جیل کے باہر بھی قانون کی خلاف ورزی ہوئی تو اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *