“شفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں کمی ” ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل پاکستان کی جانب سے این سی پی ایس 2025 سروے رپورٹ جاری

“شفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں کمی ” ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل پاکستان کی جانب سے این سی پی ایس 2025 سروے رپورٹ جاری

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے این سی پی ایس 2025 سروے رپورٹ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں سال 2025 میں شفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے این سی پی ایس 2025 سروے رپورٹ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں سال 2025 میں کرپشن کے تاثر میں واضح کمی ہوئی اورشفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے این سی پی ایس 2025 سروے رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ NCPS پاکستان میں بدعنوانی کے “تاثر” کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے جس میں 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ 12 ماہ میں کسی سرکاری کام کے لیے کوئی رشوت نہیں دینی پڑی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے کہا کہ 60 فیصد پاکستانیوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے اور ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کی معیشت زبوں حالی سے استحکام اور استحکام سے ترقی کی طرف گامزن ہے اور
43 فیصد نے قوتِ خرید میں بہتری جبکہ 57 فیصد نے قوتِ خرید میں کمی کی رپورٹ دی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے جاری رپورٹ میں کہا کہ 51 فیصد شرکا چاہتے ہیں کہ ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے والے این جی اوز، ہسپتال، لیبارٹریاں، تعلیمی ادارے اور دیگر فلاحی ادارے عوام سے کوئی فیس وصول نہ کریں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا، محکمہ صحت میں کروڑوں کی کرپشن کیسے ہوئی؟ فنڈز نکال کر اخراجات کہاں ظاہر کیے گئے؟

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا کہنا ہے کہ 53 فیصد شرکا کے مطابق ٹیکس چھوٹ یافتہ فلاحی اداروں کو اپنے ڈونرز کے نام اور عطیات کی تفصیل عوام کے سامنے ظاہر کرنا چاہیے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق یہ سروے 22 سے 29 ستمبر 2025 کے دوران کیا گیا اور 2023 میں 1600 کے مقابلے میں 2025 میں ملک بھر سے 4000 افراد نے سروے میں حصہ لیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان رپورٹ کے مطابق سروے میں شرکا میں 55 فیصد مرد، 43 فیصد خواتین اور 2 فیصد خواجہ سرا شامل تھے اور59 فیصد شرکا کا تعلق شہری علاقوں جبکہ 41 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے تھا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے واضح کیا کہ یہ سروے بدعنوانی کی اصل شرح نہیں ناپتا بلکہ بدعنوانی کے بارے میں عوامی تاثر کو ظاہر کرتا ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق بدعنوانی کے تاثر میں پولیس سرفہرست ، جبکہ ٹینڈر اور پروکیورمنٹ دوسرے، عدلیہ تیسرے، بجلی و توانائی چوتھے اور صحت کا شعبہ پانچویں نمبر پر ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق ادارہ جاتی سطح پر پولیس کے بارے میں عوامی رائے میں 6 فیصد مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔یہ بہتری قابلِ ذکر ہے، کیونکہ اس بار 4000 افراد نے سروے میں حصہ لیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق یہ بہتری ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت پولیس کے رویے اور سروس ڈلیوری میں بہتری کی عکاس ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ تعلیم، زمین و جائیداد، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکسیشن سے متعلق عوامی تاثر میں بھی بہتری آئی ہے۔

عوامی تاثر کے مطابق بد عنوانی کی بڑی وجوہات میں شفافیت کی کمی، معلومات تک محدود رسائی اور کرپشن کیسز کے فیصلوں میں تاخیر شامل ہیں اور59 فیصد شرکا کے مطابق صوبائی حکومتیں زیادہ بد عنوان سمجھتی جاتی ہیں۔

عوام کے مطابق کرپشن کے خاتمے کے اہم اقدامات میں احتساب مضبوط بنانا، صوابدیدی اختیارات محدود کرنا، حقِ معلومات کے قوانین کو مضبوط کرنا اور عوامی خدمات کو ڈیجیٹل بنانا شامل ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی سروے رپورٹ کے مطابق 83 فیصد شرکا سیاسی جماعتوں کو بزنس فنڈنگ پر مکمل پابندی یا سخت ضابطہ کاری چاہتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *