ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں حیران کن انکشاف سامنے آگیا

ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں حیران کن انکشاف سامنے آگیا

ایبٹ آباد کے ڈی پی او ہارون رشید نے یہ اہم انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر وردہ کے اغوا اور بہیمانہ قتل کے لیے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے کی رقم ادا کی گئی۔ اس حوالے سے انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو باضابطہ خط بھیجا ہے جس میں واقعے سے جڑی متعدد اہم تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

ڈی پی او کی جانب سے بھیجے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ واردات کے پیچھے ممکنہ منی لانڈرنگ سرگرمیوں کا بھی شبہ ہے۔ اس سلسلے میں نامزد ملزمان عبدالوحید، ندیم اور رداجدون کی مکمل مالی تفصیلات ایف آئی اے سے طلب کی گئی ہیں تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ کہیں اس واقعے کے پس منظر میں غیر معمولی مالی سرگرمیاں تو موجود نہیں۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان کے مشکوک یا غیر معمولی مالی لین دین کا ریکارڈ فوری طور پر فراہم کیا جائے۔ مزید یہ بھی استفسار کیا گیا ہے کہ اگر ملزمان کے خلاف کسی قسم کی منی لانڈرنگ سے متعلق انکوائری پہلے سے جاری ہے تو اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

اس کے علاوہ، ڈی پی او نے ملزمان کے سفری ریکارڈ، کسی ممکنہ سفری پابندی اور واچ لسٹ اسٹیٹس کی معلومات بھی ایف آئی اے سے طلب کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ نہایت حساس نوعیت کا ہے اور اس پر بروقت ملنے والی معلومات آئندہ قانونی کارروائی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنرل (ر) فیض حمید کیخلاف فیصلہ اگلے تین سے چار دنوں میں آ جائے گا، فیاض الحسن چوہان کا انکشاف

دوسری جانب ڈاکٹر وردہ کے قتل کے خلاف ایبٹ آباد میں بینظیر شہید ڈی ایچ کیو اسپتال کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے نے چار روز تک ہڑتال اور احتجاج جاری رکھا۔ تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کہ احتجاجی مظاہرے جی آئی ٹی رپورٹ آنے تک مؤخر کر دیے جائیں، احتجاج عارضی طور پر روک دیا گیا۔

واضح رہے کہ یہ دل خراش واقعہ 4 دسمبر کو پیش آیا تھا، جب ڈاکٹر وردہ کو ان کی سہیلی نے مبینہ طور پر 67 تولے سونے کے لالچ میں اپنے ہی ملازم کے ذریعے قتل کرایا۔ یہ واقعہ نہ صرف علاقے میں تشویش کی لہر کا باعث بنا بلکہ اس نے طبی برادری کو بھی شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *