امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین جیسے مسلح تنازعات دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے تو یوکرین اپنا نمائندہ مذاکرات کے لیے بھیج سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یوکرین جیسے تنازعات تیسری عالمی جنگ تک پہنچ سکتے ہیں، ایسے کھیل کھیلتے رہیں گے تو دنیا تیسری عالمی جنگ میں جائے گی ، ہم یوکرین کی سیکیورٹی میں مدد کریں گے۔
ٹرمپ نے امریکی امن معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے عوام، صدر ولادیمیر زیلنسکی کے علاوہ، اس معاہدے کے تصور کو پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ امن معاہدے میں چار سے پانچ اہم حصے شامل ہیں، جو زمین کی تقسیم کے باعث پیچیدہ بھی ہیں۔
امریکا، یوکرین کی ڈونباس سے مکمل دستبرداری چاہتا ہے، زیلنسکی
دوسری جانب یوکرینی صدر نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے ڈونباس میں آزاد اقتصادی زون بنانے کی تجویز دی ہے، جبکہ روس بھی ڈونباس پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے ۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکی امن منصوبے سے متعلق غیر یقینی کی صورتحال ہے، جب تک اس بات کی ضمانت نہ دی جائے کہ روسی فوجی یوکرینی انخلا کے بعد اس علاقے پر قبضہ نہیں کریں گے تب تک ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات کے تحت یوکرین اس علاقے سے دستبردار ہوجائے گا، روس بھی اس علاقے پر قبضہ چاہتا ہے لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، اگر یوکرین اس طرح کے کسی منصوبے پر متفق ہوا بھی تو اسے عوامی رائے شماری یا انتخابات کے ذریعے توثیق کی ضرورت ہوگی۔
علاوہ ازیں نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے دفاعی اخراجات اور پیداوار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ روس کا اگلا ہدف نیٹو اتحادی ممالک ہوسکتے ہیں جس کیلئے ہمیں تیار رہنا ہوگا اور اسے روکنا ہوگا۔